ابنا: باراک اوباما نے مزید کہا کہ رواں سال کے انتخابات میں مقابلہ صرف دو امیداواروں یا دو جماعتوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ ان انتخابات میں ملک کے مستقبل سے متعلق دو مکمل طور پر الگ الگ زاویۂ ہائے میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں رواں سال کے دوران ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے نامزد امیدوار میٹ رامنی نے اوباما حکومت کے اقتصادی منصوبے کو ملک کے مستقبل کے لۓ نقصان دہ قرار دیا تھا۔ امریکی عوام رواں سال میں تقریبا چار ماہ بعد ریپبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے منصوبوں کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ ری پبلیکن پارٹی اقتصادی میدان میں حکومت کے کردار میں کمی لانے ، پرائیویٹ سیکٹر کی تقویت ، زیادہ اخراجات والے منصوبوں پر نظر ثانی کرنے اور ٹیکسوں میں کمی لانے کی خواہاں ہے۔ اس پارٹی کا کہنا یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس میں باراک اوباما کے آنے کے بعد امریکہ جس راستے پر چل پڑا ہے وہ سوشلسٹ اور آزاد منڈی کے اقتصادی اصولوں کے منافی ہے۔ بنابریں ری پبلیکن پارٹی نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ باراک اوباما کو اقتدار سے ہٹا کر اپنے ملک کا راستہ بدل دیں۔ اس کے مقابلے میں ڈیموکریٹ پارٹی اقتصادی میدان میں حکومت کے زیادہ کردار ، بڑی کمپنیوں کی کارکردگی پر حکومت کی زیادہ سے زیادہ نگرانی ، فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی اور امراء پر زیادہ ٹیکس لگائے جانے کی حمایت کرتی ہے۔ ڈیموکریٹس کے نزدیک ریپبلیکن پارٹی کے منصوبوں پر عملدرآمد اقتصادی بحران کا سبب ہے۔ اس لۓ وہ باراک اوباما کو ایک بار پھر امریکہ کے صدرکے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ البتہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران امریکہ میں یہ دونوں نظریات پرکھے جاچکے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے آٹھ سالہ عہد صدارت میں امریکی اقتصاد پر کوئي نگرانی نہیں تھی اور پھر ایک ایسا بحران پیدا ہوا جس نے عالمی اقتصاد کو متزلزل کردیا۔ امریکہ میں جو اقتصادی بے قاعدگياں کی گئيں ان کے نتیجے میں سیکڑوں بڑی کمپنیاں دیوالیۂ پن کا شکار ہوگئيں ، لاکھوں افراد بے روز گار ہوگۓ اور دنیا بھر میں امریکہ کی مالی ساکھ کو شدید دھچکا لگا۔ لیکن باراک اوباما اپنے انتخاباتی وعدوں کے باوجود گزشتہ تین برسوں کے دوران امریکہ میں اقتصادی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ باراک اوباما نے امریکی شہریوں کی جانب سے دی جانے والی ٹیکس کی رقم میں سے کئي سو ارب ڈالر کساد بازاری پر غلبہ پانے اور ملک کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لۓ منڈی میں لگا دیۓ لیکن اس کے باوجود اس وقت امریکہ حکومت کو ڈیڑہ ٹریلین ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے ، امریکہ سولہ ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے اور اس ملک میں بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد ہے۔ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹ پارٹی کی اقتصادی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ امریکہ میں نومبر کے مہینے میں ہونے والے انتخابات کے دوران اپنے آپ کو دونوں جماعتوں سے الگ رکھنے یا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوجائے ۔.......
/169